باب پنجم
3} ’’بلکہ مذہب صحیح جو قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے ،یہی ہے کہ مخلوقات ارضی میں سے بجز جن اور انس کے اور کسی چیز کو ابدی روح نہیں دیا گیا‘
جواب نمبر2:
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب’’ حمامۃ البشریٰ‘‘ میں اسی کو مزید واضح کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کلیم اﷲ علیہ السلام کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تو بے شک زندہ ہیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہمیں آیات سے ثبوت ملتا ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں جس طرح کہ آگے’’ ایٹم بم نمبر 2‘‘میں مذکور ہے ’’ وَلَا تَجِدُ مِثْلَ ھٰذِہِ الْآیَاتِ فِیْ شَانِ عِیْسٰی‘‘۔ یعنی ’’اورتو اس قسم کی آیات عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں پائے گا‘‘۔
ایٹم بم نمبر2
’’ بَلْ حَیَاۃُ کَلِیْمِ اللّٰہِ ثَابِتٌم بِنَصِّ الْقُرْآنِ الْکَرِیْمِ أَلَا تَقْرَئُ فِیْ الْقُرْآنِ مَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَزَّوَجَلَّ وَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّن لِّقَائِہٖ‘ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذِہِ الْآیۃَ نَزَلَتْ فِیْ مُوْسٰی فَھِیَ دَلِیْلٌ صَرِیحٌ عَلٰی حَیَاۃِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ لأِنَّہٗ لَقِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَالْأَمْوَاتُ لَا