باب پنجم

ایٹم بم نمبر1

’’ھٰذَا ھُوَ مُوْسٰی فَتَی اللّٰہِ الَّذِیْ أشَارَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ اِلٰی حَیَاتِہٖ وَفَرَضَ عَلَیْنَا اَنْ نُؤْ مِنَ اَنَّہٗ حَیٌّ فِی السَّمَائِ وَلَمْ یَمُتْ وَلَیْسَ مِنَ الْمَیِّتِیْنَ.‘‘۔
ترجمہ:
یہ وہی موسیٰ مردِ خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے،اور مُردوں میں سے نہیں۔‘‘(ترجمہ مرزاقایانی بقلم خود)

مرزائی اعتراض:     مرزائی عموماً اس کے جواب میںکہتے ہیں کہ یہاں ’’حَیٌّ فِی السَّمَائِ‘‘ سے مراد روحانی حیات ہے اور آگے ’’لَمْ یَمُتْ‘‘ سے نفی روحانی موت کی ہورہی ہے۔
جواب نمبر1:
کیا کوئی شخص ان کی روحانی موت کا قائل ہے جس کو مرزا ثابت کر نے کی کوشش کر رہا ہے؟؟روحانی حیات تو انس و جن ، مسلمان اورکفارسب کو حاصل ہے ۔مرزا قادیانی اس بات کا خود بھی اقرار کرتا ہے کہ:
1}     ’’کیونکہ قرآن شریف یہ نہیں سکھلاتا کہ انسانی ارواح اپنی ذات کے تقاضا سے ابدی ہیں بلکہ وہ یہ سکھلاتا ہے کہ ابدیت انسانی روح کیلئے محض عطیہ الٰہی ہے

2}     چونکہ خدائے تعالیٰ کو اپنے کلام عزیز میں یہ منظور ہے کہ کھلے کھلے طور پر یہ ظاہر کرے کہ انسان ایک جاندار ہے کہ جس کی موت کے بعد بکلّی اس کی فنا نہیں ہوتی بلکہ اس کی روح باقی رہ جاتی ہے‘‘