باب چہارم

جواب نمبر 7:

مرزا قادیانی کا کردار جوانی میں بھی اچھا نہیں تھا
مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ ’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) تمہارے داد ا کی پنشن وصول کرنے گئے توپیچھے پیچھے مرزا اما م دین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلا کراوردھوکہ دے کربجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا ۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے …‘‘۔
واضح ہوکہ مرزاکی عمر اس وقت 24/25 سال تھی کیونکہ پیدائش( حسب تحریر کتاب البریہ ص146،روحانی خزائن جلد13،ص177) 1839؁ء یا1840؁ء ہے اور تاریخ ملازمت
1864؁ء ہے۔ نیز واضح ہوکہ یہ پنشن کی رقم معمولی نہ تھی بلکہ سات صد روپیہ تھی

جو آج کل کے سات لاکھ کے برابر ہوسکتی ہے۔
اب مرزا صاحب کی عمر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اتنی خطیر رقم کو بھی ذہن میں رکھتے ہو ئے خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں کہ آخر اتنی رقم کہاں کہاں خرچ ہوئی؟ کیا حضرت صاحب اس وقت بچے تھے کہ امام دین آپکو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کر کہیں اور لے گیا اور ادھر اُدھر پھرانے کا کیا مطلب ہے؟ اگر مرزا صاحب اتنے بھولے اور چھوٹے تھے تو گھر والوں نے اتنی بڑی رقم لینے کیلئے انہیں کیوں بھیجا؟ ذرا غور فرمائیں کہ یہ لفظ کہاں کہاں کی غمازی کرتا ہے؟ پھر سوچیں کہ یہ روپیہ کوئی نیک کام میں خرچ نہیں ہوا بلکہ ’’اڑایا گیا‘‘ اور اڑانا وہاں ہی بولا جاتا ہے جہاں کار خیر نہ ہو۔
ہم مرزائیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس سات صد روپے کا حساب دیں