باب سوم
بحثِ اوّل ۔صدق وکذب مرزا
مذکورہ بالاموضوع میں ہم مدعی ہوں گے مرزائی صاحبان اول تو اس موضوع کو تسلیم ہی نہیں کرتے اگر بامر مجبوری انہیں تسلیم کرنا پڑے تو وہ مدعی بن جاتے ہیں حالانکہ یہ اصول غلط ہے ، جو فریق جو موضوع پیش کرے اصولاً اس کو اس کا مدعی ہو نا چاہیے مرزا صاحب کی سیرت و کردار کا موضوع چونکہ ہماری طرف سے پیش ہوا ہے لہذا مدعی ہمیں ہونا چاہیے اور حیات ووفات کا موضوع عموماً مرزائیوں کی طرف سے پیش ہوتا ہے اور وہ اس پر مصر ہوتے ہیں لہذا وفات مسیح کے مسئلہ میں مدعی انہیں ہونا چاہیے ۔
___ ______ ___ ___ ______ ___
کذبِ مرزا کی پہلی دلیل۔مرزا کے جھوٹ
ابتدائے کلام:
کذبات مرزا بیان کرنے سے قبل ان آیات کو بار بار دہرانا چاہیے :
1۔ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ۔(آل عمران:61) ترجمہ: ’’اورجو جھوٹے ہوں اُن پر اللہ کی لعنت بھیجیں‘‘۔(آسان ترجمہ ٔ قرآن)
2۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْقَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌ۔(انعام:93) ترجمہ: ’’اور اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے، حالانکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو۔‘‘(آسان ترجمۂ قرآن)
3۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْجَآئَ ہٗط أَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ۔(زمر:32)