باب ہشتم

محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔‘

-7 ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے

-8 ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا‘‘۔ 

لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحیٰ نبی کو اسپر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا تھا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اُسکے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُسکے بدن کو چھوا تھا۔یا کوئی بے تعلّق جوان عورت اُسکی خدمت کرتی تھی۔ اِسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحیٰ کانام حصوررکھامگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اِس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔  

(دافع البلاء ص 4،روحانی خزائن ج18 ص220)

نوٹ: اِس عبارت سے واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ان الزامات کو قرآن کی رُو سے درست تسلیم کرتاہے۔کہ قرآن نے تو حضرت یحیٰ علیہ السلام کو تو حصوریعنی عورتوں سے پرہیز کرنے والا لکھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حصورنہ لکھا کہ (نعوذباللہ) ان کے غیر محرم عورتوں سے اس قسم کے تعلقات تھے لہذا قادیانیوں کی یہ تاویل ھبآء منثور اً ہو گئی کہ مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ بائبل کی رُو سے ہے اوریہ یہودیوں کے الزام تھے جو مرزا نے نقل کئے ہیں۔ مرزا قادیانی قرآن کی رُو سے ان تمام الزامات کو درست تسلیم کرتا ہے۔(العیاذ باللہ)۔۔۔اَزچنیوٹیؒ۔