باب ہشتم
-3 ’’ان میں کوئی بھی ایک ایسی خاص طاقت ثابت نہیں ہوئی جو دوسرے نبیوں میں پائی نہ جائے بلکہ بعض دوسرے نبی معجزہ نمائی میں ان سے بڑھ کر تھے اور ان کی کمزوریاں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ محض انسان تھے‘‘۔
-4 ’’اور میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔‘‘
-5 ’’دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کردیا گیا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کردیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔‘‘
-6 مرزا قادیانی کی تضاد بیانی اور توہین عیسیٰ علیہ السلام کی یہ گھٹیا حرکت دیکھئے کہ کبھی کسی جگہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ ہونے کا انکار کرتے ہوئے یوسف نجار کو ان کا باپ بناتا ہے(جیسا کہ آپ ’مرزاقادیانی کے کفر کی دوسری وجہ‘ میں پڑھ چکے ہیں) اور اب یہاں پرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کو تسلیم تو کرتا ہے مگر مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ اور قرآن کی نص صریح اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے شاہکار اور خرق عادت طریقے سے اِن کی پیدائش کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھتا ہے:
’’اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خودبخود پیدا ہوجاتے ہیں اور حضرت آدم بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ ؑکی اِس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے