باب ہشتم
میں تمہیں منتخب کرکے فضیلت بخشی ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن)
پھر سورہ نساء میں ہے کہ:
وَّبِکُفْرِھِمْ وَقَوْلِھِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُھْتَانًا عَظِیْمًا ۔ (النساء:156)
ترجمہ: اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا،اور مریم پر بڑے بھاری بہتان کی بات کہی۔ (آسان ترجمہ قرآن)
اور سورہ تحریم میں فرمایا:
وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَاوَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ ۔ (التحریم: 12)
ترجمہ: نیز عمران کی بیٹی مریم کو (مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی، اور انہوں نے اپنے پروردگار کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی،اور وہ طاعت شعارلوگوں میں شامل تھی۔
(آسان ترجمہ قرآن)
اللہ تعالیٰ کے ان واضح فرامین اور حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہما السلام کی پاکی اور برأت کے بیان کے بعد مرزا قادیانی کی کفریات ولغویات بھی ملاحظہ فرمائیں:
-1 ’’پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا…مگر خود اِس قدربدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولدالحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے‘‘۔
-2 ’’وہ صرف ایک عاجز انسان تھا او رتمام انسانی ضُعفوں سے پورا حصہ رکھتا تھا اور وہ اپنے چار بھائی حقیقی اور رکھتا تھا جو بعض اس کے مخالف تھے اور اس کی حقیقی ہمشیرہ دو تھیں۔ کمزور سا آدمی تھا جس کو صلیب پر محض دو میخوں کے ٹھوکنے سے غش آگیا‘‘۔