باب ششم

حوالہ نمبر2 :

 ’’وَ کَیْفَ یَجِیْئُ  نَبِیٌّ بَعْدَ رَسُوْلِنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْیُ بَعْدَ وَفَاتِہٖ وَخَتَمَ اللّٰہُ بِہِ النَّبِیِّیْنَ‘‘۔   

ترجمہ: ’’اور آنحضرتؐ کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے‘‘ ۔  

حوالہ نمبر 3 :

آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ’’لَانَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پرنبوت ختم ہو چکی ہے پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد تشریف لاوے اس سے تو تمام تارو پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا۔ 

’’ بَعْدِیْ‘‘ سے مراد بعثت کے بعد مراد ہے خواہ زندگی میں ہویازندگی کے بعد جیسا کہ قرآن مجید میں اسی لفظ کا استعمال ہوا ہے اور وہاں موت مراد نہیں بلکہ زندگی کے متعلق استعمال ہوا ہے جیسے ’’بِئْسَ مَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ‘‘ اور آیت ’’وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میںکئی نبی موجود تھے نیز ’’بَعْدِیْ‘‘ کا معنی خود مرزا نے زمانے کا کیا ہے، مقابلہ کا نہیں کیا۔ 

  ۱؎ صحیح البخاری، کتاب المناقب بَابُعَلَامَاۃِ النُبُوَّۃِ فِی الْاِسْلَامِ حدیث نمبر 3621 باب نمبر 25، کتاب المغازی بَابُ وَفْدِ بَنِیْ حَنِیْفَۃَ، وَ حَدِیْثُ ثُمَامَۃَ بْنِ اُثَالٍ حدیث نمبر4374 باب 71۔