باب ششم
جواب نمبر2:
لفظ ’’بَعْدِیْ‘‘ کا مخالفت یامقابلہ کے معنی میں استعمال ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہاں بھی یہی معنی مراد ہو اگر آپ میں ہمت ہو تو کسی قرینہ سے ثابت کریںکہ یہاں یہی معنی ہے یا کسی مسلّم مجدد نے یہ معنی کئے ہوں۔
اجرائے نبوت کے متعلق بزرگوں کے اقوال کی حقیقت
-1 مرزائی جس قدربزرگوں کے اقوال اجرائے نبوت کے ثبوت میں پیش کرتے ہین ان میں اکثر وبیشتر میں دجل وتلبیس سے کام لیاجاتا ہے انہی بزرگوں کی ختم نبوت کے متعلق تصریحات موجود ہیں ۔
-2 جوعبارتیں مرزائی پیش کرتے ہیں جن سے وہ نبوت جاری ثابت کرتے ہیں ان تمام سے مقصد یہ ہے کہ ان کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ انکے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی چونکہ یقینی ہے اور وہ حضور ﷺ کی شریعت کے تابع ہونگے اس لئے وہ یوں کہہ دیتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے بلکہ آپ کا تابع ہوکر آسکتا ہے اس سے مراد ان کی صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوتے ہیں نہ یہ کہ کوئی قاعدے کے طور پر وہ پیش کرتے ہیں تفصیل کیلئے علامہ خالد محمود کی کتاب ’’عقیدۃ الامۃ فی معنی ختم النبوۃ‘‘ او رمولانا محمدنافع رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ’’ختم نبوت اور سلف صالحین‘‘ ملاحظہ ہو۔
-3 سلف صالحین کی جس قدر عبارتیں پیش کی جاتی ہیں ان کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ حضور کے بعد نبوت جاری ہے بلکہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ سلف صالحین محدثیت اور مجددیت کے قائل ہیں ۔ مرزا نے اپنے مرنے سے ایک دن قبل 25 مئی 1908ء بوقت ظہر ایک سرحدی پٹھان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ :
’’میں نے اپنی طرف کوئی اپنا کلمہ نہیں بنایا۔نہ نماز علیحدہ بنائی ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کو دین وایمان سمجھتا ہوں۔ یہ نبوت کا لفظ جو اختیار کیاگیاہے صرف خدا کی طرف سے