باب ششم

اعتراض نمبر 2:  

یہاں پر متکلم کی مراد دیکھنی چاہیے مرادِ متکلم یہی ہے کہ آپ کے بعد صاحبِ شریعت نبی کوئی نہیں ہوگا۔ ہرکلام میں متکلم کی مراد کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ 

جواب:

ہم کہتے ہیں کہ متکلم کی مراد بھی وہی ہے جو ہم بیان کرتے ہیں اور نزاع صرف لفظی ہے جیسا کہ مرزا نے اپنی کتاب چشمہ معرفت ص180، روحانی خزائن جلد23ص189پر تحریر کیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ کتاب مرزا کی موت سے گیارہ دن قبل15 مئی 1908؁ء کو چھپی: ’’اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے ان کلمات کو جونبوت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں یعنی اس قدر کہ اس کے زمانے میں اسکی کوئی نظیر نہ ہو، اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے۔ مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہیہ کے قائل ہیںلیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیش گوئیوں پر مشتمل ہو ں، نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے حالانکہ نبوت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی والہام ہو اور ہم سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ شریعت قرآن شریف پر ختم ہوگئی، صرف مبشرات یعنی پیش گوئیاں باقی ہیں‘‘۔  

اعترا ض نمبر 3:

’’لَانَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ میرے مد مقابل او رمخالف ہو کر کوئی نبی نہیں آسکتا جیسا کہ حدیث ’’فَاَوَّلْتُھُمَا کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ بَعْدِیْ‘‘   ۱ ؎   [ یعنی میں (محمدرسول اللہ ﷺ)نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے]سے ثابت ہو رہا ہے۔ 

جواب نمبر1:

   مرزا نے خود ’’بَعْدِیْ‘‘ کا ترجمہ میرے بعد کیا ہے، مخالفت نہیں کیا۔ 

حوالہ نمبر 1:  اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔