باب ششم
دورکوع قبل حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہاالسلام کی پیدائش کا ذکر ہے تمام واقعہ بڑی تفصیل سے اﷲ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں اور اس ضمن میں یہ ارشاد ہوتاہے کہ جب ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتار دیا تو ان کو یہ خطاب کیا گیا ۔ اس سورہ میں چار جگہوں پر بنی آدم سے خطاب کیا گیا ہے۔
1۔ ’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا‘‘۔
ترجمہ: اے آدم کے بیٹواور بیٹیو! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے۔
2۔ ’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَایَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ ‘‘ ۔
ترجمہ: اے آدم کے بیٹواور بیٹیو!شیطان کوایسا موقع ہر گز ہر گز نہ دینا کہ وہ تمہیں فتنہ میں ڈال دے۔
3۔ ’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ‘‘
ترجمہ: اے آدم کے بیٹواور بیٹیو!اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے کچھ پیغمبر آئیں۔
4۔ ’’یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ‘‘
ترجمہ: اے آدم کے بیٹواور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوش نمائی کا سامان (یعنی لباس جسم پر) لے کر آؤ۔
ان چار جگہوں پر اولاد آدم کو خطاب کیا گیا ہے اور یہ حضور ﷺ کے سامنے ماضی کی حکایت کی گئی ہے حضورﷺ یا آپ ﷺکی امت کو خطاب نہیں ہو ا۔ کیونکہ آپ کی امت کو ’ یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ‘‘اور ’’یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ‘‘ سے خطاب کیا جاتاہے۔’’ یَابَنِیْ اٰدَمَ‘‘ سے اس امت کو خطاب نہیں کیا گیا۔ ہاں اگر پہلے حکم کا نسخ نہ ہو اور اس حکم میں یہ امت بھی شامل ہوجائے تو یہ علیحدہ با ت ہے چنانچہ اس کے بعد اس وعدہ کے مطابق جو اﷲ تعالیٰ نے رسول بھیجے ہیں ان میں سے بعض کا تذکرہ تفصیلاً بیان کیا جیسے