باب پنجم

سے کھانے اور پینے سے مستغنی کردیا جس طرح کہ ملائکہ کو ان دونوں چیزوں سے پاک رکھا ہے بس اُن کا وہاں کھانا پینا تسبیح و تہلیل ہے۔ جس طرح رسول کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے بے شک رات کو مجھے اپنے رب کی طرف سے کھلایا اور پلایا جاتا ہے‘‘۔ 

جواب نمبر 4: جوخوراک آدم علیہ السلام کی تھی وہی عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:  اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ‘‘۔

یعنی ’’بے شک اﷲ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے۔‘‘ 

جواب نمبر5:

اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کی اُلُوہیت توڑنے کیلئے بطور دلیل پیش کی گئی ہے کہ جو کھانے پینے کا محتاج ہو وہ الٰہکیسے بن سکتاہے تو الوہیت کی تردید کیلئے ایک دو دفعہ کا کھانا بھی کافی ہے اگر ہم کہیں کہ مرزا صاحب اور اسکی بیوی اکٹھے کھانا کھایا کرتے تھے توکیا اس سے یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ اس کی بیوی بھی مر گئی ہے حالانکہ وہ اس کے بعد بڑی مدت تک زندہ رہی۔ 

آیت نمبر 5: ’’وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا‘‘۔

ترجمہ: اور اُس نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔ 

قادیانی استدلال: 

اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اگر وہ زندہ ہیںتو بتائیے کہ وہ زکوۃ کس کو دیتے ہیں اور نماز کس طرف منہ کرکے پڑھتے ہیں۔ 

جواب نمبر1: 

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے ہیں تو ساتھ ساتھ عیسیٰ علیہ السلام بھی پڑھ لیتے ہیں اور جن غریبوں اور مسکینوں کو زکوٰۃ حضرت موسیٰ علیہ السلام دیتے ہوں گے انہیں عیسیٰ علیہ السلام بھی دیتے ہوں گے۔ 

جواب نمبر 2: 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے نصاب آپ ثابت کردیں غرباء فقراء ہم بتائیں گے۔ نیز یہ بتائیے کہ بچپن میں وہ کیسے نماز پڑھتے تھے اور کن لوگوں کو زکوٰۃ دیتے تھے ۔