باب پنجم
السلام کو ملتی ہے ۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں : ’’اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے اور اسکی ٹھنڈی ہو ا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے‘‘۔
جواب نمبر3:
امام شعرانیؒ کا حوالہ
علامہ شعرانی ؒ(898ھ _____ 973ھ)اس سوال کا جواب یوںتحریر فرماتے ہیں:
’’قَالَ الْعَلَّامَۃُ الشَّعْرَانِیُّ فِی الْیَوَاقِیْتِ وَالْجَوَاھِرِ: (فَاِنْ قِیْلَ) فَمَا الْجَوَابُ عَن اسْتِغْنَائِہٖ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مُدَّۃَ رَفْعِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَالَ: وَمَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (فَالْجَوَابُ) أَنَّ الطَّعَامَ اِنَّمَا جُعِلَ قُوْتاً لِمَنْ یَّعِیْشُ فِی الْاَرْضِ لِأَنَّہٗ مُسَلَّطٌ عَلَیْہِ الْھَوَائُ الْحَارُّ وَالْبَارِدُ فَیَنْحَلُ بَدَنُہٗ فَاِذَا انَّحَلَّ عَوَّضَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی بِالغِذَائِ اِجْرَائً لِعَادَتِہٖ فِیْ ھٰذِہِ الْخِطَّۃِ الغَبْرَائِ وَأَمَّا مَنْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَی السَّمَائِ فَاِنَّہٗ یَلْطُفُہٗ بِقُدْرَتِہِ وَیُغْنِیْہِ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ کَمَا أَغْنَی الْمَلَائِکَۃَ عَنْھُمَا فَیَکُوْنُ حِیْنَئِذٍ طَعَامُہُ التَّسْبِیْحَ وَشَرَابُہُ التَّھْلِیْلَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّیْ أَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ۔‘‘
ترجمہ: ’’اگر کوئی عیسیٰ علیہ السلام کی بابت یہ سوال کرے کہ آسمان پر قیام کے دوران انہیں کھانے پینے سے کیسے استغناء ہوگا؟ جبکہ ارشادِ باری ہے: ’’کہ ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں بنایا کہ جو کھاتا پیتا نہ ہو‘‘۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو زمین پر رہنے والا ہے اس کے بدن کی قوت کے لیے کھانا بنایا گیا ہے اس لیے کہ اس کے جسم پر گرم اور سرد ہوائوں کا عمل دخل ہے جن سے جسم تحلیل ہوتا ہے۔ اس اثر پذیری کے پیش نظر قدرت نے کھانے کے عمل کو رکھ دیا ہے باقی جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں اٹھالیا تو وہاں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت لطیفہ