باب پنجم

چیلنج:

قادیانی احادیث اور تاریخ کے مجموعہ سے یہ دکھا دیں کہ حضرت عمربن خطاب ؓکے اس قول کہ’’ حضرت عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں ‘‘  کی تردیدکسی ایک بھی صحابی ؓنے کی ہو۔۔۔۔تو منہ مانگا انعام حاصل کریں۔   

 ہمارا طریق استدلال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ (المتوفّٰی24؁ھ) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو مقیس علیہ بنایا ہے جو کہ امر مسلّم تھا اور حضورﷺ کے رفع کو مقیس بنایا اب جواب میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ (المتوفّٰی13؁ھ) نے تردید صرف مقیس کی ہے حالانکہ اگر مقیس علیہ غلط ہوتاتو پہلے اس کی تردید کرتے مقیس کی خود بخودتردید ہوجاتی ہے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا مقیس علیہ کی تردید نہ کرنا اورتمام صحابہ کا اس پر سکوت کرنا رفع عیسیٰ علیہ السلام پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ثابت کرتا ہے ۔ نیز یہاںپر اختلاف بھی ر فع جسمانی میں تھا کیونکہ حضور ﷺ کا روحانی رفع تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  بھی مانتے تھے اس لیے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ تو حضور ﷺ کی وفات کے ہی منکر تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع پر قیاس کررہے تھے ۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جسد اطہر کے موجود ہوتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات کیوں کہی ۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے خود دیا ہے۔ 

 ’’وَکَانَ مِنَ الْحُزْنِ کَالْمَجَانِیْنَ‘‘۔

یعنی ،آپ شدت غم سے دیوانوں کی طرح ہوگئے تھے۔ 

جواب نمبر 3:

مرزا نے مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ کا ترجمہ یہ کیا ہے یعنی’’ مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں‘‘۔ 

جواب نمبر4: 

اگر خَلَتْ کے عموم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل ہیں تو مرزائی صاحبان بتائیں: