باب پنجم

اعتراض: 

ہم مانتے ہیں کہ ’’خَلَتْ ‘ ‘کا معنی’’ مَضَتْ ‘‘ہے لیکن قرآ ن مجید نے خود اس کی تصریح کردی ہے فرمایا ’’اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ ‘‘اس میں موت اورقتل میں حصر کیا۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ سے قبل بھی تمام انبیاء علیہم السلام کاان دوصورتوں ہی میں حصر ہے یعنی وہ قتل ہوئے ہیں یا مرگئے ہیں نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے بھی حضور نبی کریم ﷺ کی وفات کے موقع پر خطبہ پڑھ کر متعین فرمادیاکہ یہاں خَلَتْ کا معنی موت ہے۔ فرمایا: 

  ’’مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اِلٰہَ مُحَمَّدٍفَاِنَّہٗ حَیٌّ لَّایَمُوْتُ‘‘۔ 

ترجمہ اور ابو بکر نے کہا کہ جو شخص محمدﷺ کی عبادت کرتا ہے تو وہ ضرور فوت ہوگئے ہیں اور جو شخص محمدﷺ کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے نہیں مرے گا۔ 

جواب: 

ہم کہتے ہیں کہ معنی بحال ہے کیونکہ جوخطبہ اس وقت پڑھا گیا ہے اس میں تورفع مسیح کا ذکر ہے مرزا لکھتا ہے : 

’’ اس قصہ کے متعلق یہ عبارت ہے:  قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ) مَنْ قَالَ اِنَّ مُحَمَّدًا مَاتَ فَقَتَلْتُہٗ بِسَیْفِیْ ھٰذَا وَاِنَّمَا رُفِعَ اِلَی السَّمَائِ کَمَا رُفِعَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ ۔۔۔۔دیکھو ملل نحل جلد ثالث۔‘‘

ترجمہ: عمر بن خطاب کہتے  تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت فوت ہوگئے تو میں اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کردوں گا بلکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسیٰ بن مریم اٹھائے گئے‘‘۔