باب پنجم

اسلام کے تمام اصول و عقائد طے شدہ ہیں۔ ذیل میں کچھ حوالہ جات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پر اجماعِ امت کے پیش کیے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں: 

امام ابوالحسن الاشعریؒ(علی بن اسماعیل بن اسحاق بن سلام الاشعری(260؁ھ۔۔۔۔ 324؁ھ)جو مرزا قادیانی کے نزدیک تیسری صدی ہجری کے مجدد ہیں ،تحریر فرماتے ہیں کہ: 

’’وَأَجْمَعَتِ الْاُمَّۃُ عَلٰی أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ رَفَعَ عِیْسیٰ اِلٰی السَّمَائِ‘‘۔  

ترجمہ: اور امت کا اس بات پر اجماع اور اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ 

امام المفسرین علامہ اندلسی ؒ (ابوحیان محمد بن یوسف الاندلسیؒ، 654؁ھ۔۔۔۔ 745؁ھ)اپنی تفسیر البحرالمحیط میںامام ابنِ عطیہ مالکی غرناطی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ  (481؁ھ۔۔۔۔542؁ھ)کا اجماع نقل کرتے ہیںکہ: 

’’ وَأَجْمَعَتِ الْأُمَّۃُ عَلٰی مَاتَضَمَّنَہُ الْحَدِیْثُ الْمُتَوَاتِرُ مِنْ: أَنَّ عِیْسیٰ(عَلَیْہِ السَّلاَمُ) فِی السَّمَآئِ حَیٌّ، وَ أَنَّہٗ یَنْزِلُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ‘‘۔ 

ترجمہ حدیثِ متواتر کے اس مضمون پر امت کا اجماع اور اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہ آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ 

امام المفسرین علامہ اندلسی ؒ (ابوحیان محمد بن یوسف الاندلسیؒ، 654؁ھ۔۔۔۔ 745؁ھ)تحریرکرتے ہیںکہ: 

’’وَاَجْمَعَتِ الْاُمَّۃُ عَلٰی أَنّ عِیْسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَیٌّ فِی السَّمَائِ وَسَیَنْزِلُ اِلَی الْاَرْضِ‘‘۔

ترجمہ: ’’اور امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں اور عنقریب زمین پر اتریںگے‘‘۔