باب پنجم
حدیث نمبر6:
’’ یُحَدِّثُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَعَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُھِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَائِ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا اَوْلَیَثْنِیَنَّھُمَا
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ جناب نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ابن مریم ضرور ضرور فج روحا سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
اس حدیث میں حضور ﷺ نے قسم کھا کر یہ مسئلہ بیان فرمایااور قسم کے متعلق مرزا صاحب کا حوالہ گزر چکا ہے کہ اس میں تاویل نہیں چل سکتی اور ظاہرپر محمول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر7:
’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: لَیْسَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَہٗ یَعْنِیْ عِیْسٰی (عَلَیْہِ السَّلَامُ) نَبِیٌّ، وَاِنَّہٗ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ…الخ‘‘۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور وہ نازل ہونے والے ہیںپس جب تم ان کو دیکھو تو انہیں پہچان لینا۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) چند علامات ذکر فرمائیں۔ جن میں سے کوئی علامت بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔
حدیث نمبر8:
’’اَلْاَنْبِیَائُ اِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَ دِیْنُھُمْ وَاحِدٌ وَ اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّہٗ لَمْ یَکُنْم بَیْنِیْ وَ بَیْنَہٗ نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ…الخ.‘‘
ترجمہ: انبیاء علاتی بھائیوںکی طرح ہوتے ہیں ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں (محمد ﷺ) عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا