باب چہارم

مرزا قادیانی 

مرزا قادیانی نے1311 ؁ھ میں رمضان المبارک میں واقع ہونے والے جس خسوف و کسوف کو اپنی صداقت کا نشان ظاہر کیا ہے۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ 1311؁ھ کا خسوف و کسوف ہندوستان میں نہیں ہوا بلکہ امریکا میں ہوا جہاں مسٹر ڈوئی نے مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہوا تھا اور سوڈان میں اُنہی دنوں میں محمد احمد نے مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر رکھا تھا۔ اگر1311؁ھ کا خسوف و کسوف مرزا قادیانی کے لئے نشان بن سکتا ہے تو پھر محمد احمد سوڈانی اور مسٹر ڈوئی کے لئے کیوں نہیں بن سکتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ تین دعوے داروں میں سے دو کو جھوٹا ٹھہرایا جائے اور تیسرے کے لئے صداقت کی دلیل ٹھہرائی جائے۔ نیز صالح بن طریف، ابو منصور عیسیٰ اور علی محمد باب کے لئے یہ خسوف و کسوف نشان کیوں نہیں بن سکتا۔ مَا ھُوَ جَوَابُکُمْ فَھُوَ جَوَابُنَا۔ 

خلاصہ کلام: 

-1 مرزا نے 1894؁ ء کے اجتماعِ کسوف و خسوف کو اپنی صداقت کی دلیل بنایا ہے جبکہ یہ اس کے کذب پر دلالت کررہی ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جس تاریخ کو جس کیفیت کے ساتھ گہن لگے بالکل اُس تاریخ کو اُسی کیفیت کے ساتھ اُس سے 223 سال قبل بھی گہن لگ چکا ہوتا ہے اور اس کے 223 سال بعد پھر اسی کیفیت سے لگنا ہوتا ہے۔ چنانچہ جب 1894 ؁ء میں اجتماع ہوا تو اس سے 223 سال پہلے بھی لگ چکا تھا اور 223 سال بعد پھر لگے گا۔ یہ بات ’’لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ‘‘ کے خلاف ہے۔ 

-2     1894 ؁ء کے 223 سال قبل یا بعد تو مکمل طور پر اسی کیفیت سے اجتماع ہوا یا ہو گا جس کیفیت سے1894؁ء میں ہوا لیکن صرف ایک سال بعد 1895؁ء میں پھر اجتماع ہوا جو کامل طور پر اس کیفیت کا تو نہ تھا مگر بہر حال ان ہی تاریخوں میں یہ اجتماع ہوا یہ بھی ’’لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ‘‘ کے خلاف ہے اس سے پہلے یعنی 1894 ؁ء سے 45 سال قبل 1849 ؁ء میں بھی ایسا ہی ناقص اجتماع ہوا تھا تو’’ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ‘‘کیسے رہا؟؟؟