باب چہارم

آیتین: 

پیشنگوئی میں دوسرا لفظ آیتین ہے۔ آیت کھلی نشانی کو کہتے ہیں۔’’ جس کی مانند اُس کے اظہار سے پہلے اس کی مثل کوئی چیز واقع نہ ہوئی ہو اور وہ بے نظیر ہو‘‘۔ ورنہ پھر سچے مہدی اور جھوٹے مہدی میں تمیز کرنی مشکل ہو جائے گی۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ چاند کی 13، 14،15 تاریخیں خسوف کے لئے اور 27،28،29 کسوف کے لئے مقرر ہیں اور یہ نظام کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ چنانچہ مرزا صاحب کے زمانہ میں بھی حسب سابق ایسا ہی ہوا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب سچے مہدی نہ تھے۔ اگر سچے مہدی ہوتے تو اُن کے لئے کوئی ایسا مخصوص نشان ظاہر ہوتا جو دوسرے جھوٹے مہدیوں سے اُن کو ممتاز کر دیتا۔ حالانکہ  مرزا قادیانی کے زمانہ میں محمد احمد مہدی سوڈان میں،بہاء اللہ ایران میں اور مسٹر ڈوئی امریکا میں اپنے دعوائے مہدویت کے ساتھ زندہ موجود تھے۔ 

دار قطنی کی روایت کے جوابات: 

جواب نمبر 1: 

مرزاقادیانی صاحب جس روایت کو حدیث نبوی بنا کر پیش کرتے ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے ،پیغمبر خدا پر بہتان عظیم ہے اورصریح دھوکہ ہے۔ یہ حدیث رسول نہیں بلکہ اما م محمد باقر کا قول ہے جو دار قطنی نے اپنی کتا ب میں نقل کیا ہے۔ 

جواب نمبر 2: 

اما م محمد باقرؒ (57؁ھ۔114؁ھ)کا یہ قول سند کے لحاظ سے انتہائی ساقط اور مردود ہے۔ یہ قول مع سند یوں ہے:

 ’’عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا آیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ اﷲُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ تَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِیْ النِّصْفِ مِنْہُ وَلَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ اﷲُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ‘‘۔