باب چہارم

برس پہلے رسول کریم  نے دی تھی، وہ میں ہی ہوں‘‘۔

خلاصہ یہ ہوا کہ 1891ء؁ میں مہدی کا انکار کر دیا، 1894؁ء میں مہدی ہونے کا دعوی کر دیا پھر1899؁ء میں مہدی ہونے کا انکار کر دیا اور 1903؁ء میں پھر مہدی ہونے کا دعوی کر ڈالا۔ 

ع   ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے 

اب ہم ’’دار قطنی‘‘ کی رمضان المبارک میں خسوف و کسوف کی اس روایت کا حال بیان کرتے ہیں جس کو مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مہدویت کی تائید میں پیش کیا ہے۔

عَنْ عَمْرِ و بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ اِنَّ لِمَھْدِیْنَا آیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْ نَا مُنْذُ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ تَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَ تَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ وَلَمْ تَکُوْنَامُنْذُ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ‘‘۔ 

ترجمہ:

عمرو بن شمر جابر سے اور جابر محمد بن علی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش جب سے ہوئی کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ ( وہ دو نشان یہ ہیں) چاند گرہن ہو گا، رمضان کی پہلی رات میں (یا قمر کی پہلی رات میں جو مہینہ کی چوتھی شب ہے کیونکہ مہینہ کی راتوں میں یہ پہلی رات ہے۔ جس کے چاند کو محاورہ عرب میں صرف قمر کہا جاتا ہے۔ اس لئے قمر کی پہلی رات چاند کی چوتھی شب ہوئی ) اور سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہو گا۔ (یعنی چودہ پندرہ تاریخ کو) اور وہ چاند گرہن اور سورج گرہن ایسے ہیں کہ جب سے آسمان و زمین اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں، کبھی ایسے گرہنوں کا ظہور نہیں ہوا۔  

’’دار قطنی‘‘ کی اس روایت کو مرزا قادیانی نے اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے