باب پنجم
میں یوں کیا ہے : ’’ اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔‘‘ ملاحظہ فرمایئے ان دونوں جگہوں میں کس صراحت کے ساتھ مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنایا گیا ہے ۔
آیت نمبر5:
’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌo‘‘
ترجمہ: اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی ایک نشانی ہیں،اس لئے تم اس میں شک نہ کرو،اور میری بات مانو۔یہی سیدھا راستہ ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن)
یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت کے وقت نازل ہونے کی صریح دلیل ہے جیسا کہ تمام مفسرین نے ’’اِنَّہٗ‘‘کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے سب سے بڑی نشانی عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا ہے۔ اسی طرح شاہ عبدالقادررحمہ اللہ (المتوفّٰی1230ھ) نے جو مرزا کے نزدیک بھی تیرھویں صدی کے مجدد ہیں، یہ ترجمہ کیا کہ ’’حضرت عیسیٰ کاآنا نشانِ قیامت ہے‘‘ اوراسی طرح ملا علی قاریؒ نے فقہ اکبر مع شرح ص112(طبع مکتبہ حقانیہ ملتان) پر اس آیت کو نزول عیسیٰ علیہ السلام پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب اعجاز احمدی میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہی کو بنایا ہے۔
آیت نمبر 6:
’’وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا…الخ.‘‘
ترجمہ : اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) لوگوں سے کلام کریںگے گود میں بھی اور بڑھاپے میں بھی۔