باب پنجم
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحابی رسولﷺ نے حدیثِ رسول بیان کرنے کے بعد یہ آیت بطور استشہاد پیش کی جس سے آیت کی تفسیر واضح ہوگئی۔ صحابی رسول ﷺ کی اس تفسیر کے بعد کسی انسان کی تفسیر جو اس کے خلاف ہو اس کی کوئی وقعت نہیں اور درحقیقت یہ تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ یہ حضور ﷺ کی تفسیر ہے کیونکہ ایسے مقامات میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قیاس سے کچھ نہیںکہہ سکتے ان کی اکثر عادت شریفہ یہ تھی کہ کسی حدیث کے بیان کرنے کے بعد وہ استشہاد کے طور پر کبھی تو فرماتے ’’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَاِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَؤُوْا‘‘ او رکبھی ’’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ نہیں کہتے تھے صرف ’’اِنْ شِئْتُمْ‘‘ کہہ دیتے تھے۔ نیز دیکھئے اکابرین سلف نے بھی نزول عیسیٰ علیہ السلام پر آیت مذکورہ کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
حوالہ نمبر1۔ شرح فقہ اکبر کا اہم حوالہ
امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ؒ (80ھ ____ 150ھ)کی مشہور کتاب ’’فقہ اکبر ‘‘کی شرح میں ملا علی قاری ؒ (الشیخ نورالدین ابو الحسن علی بن سلطان محمد الھروی القاری، المتوفیٰ 1014ھ)عقیدہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی وضاحت میں آیت مذکور سے استدلال فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
’’{وَنُزُوْلُ عِیْسٰی مِنَ السَّمَاء}ِ کَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی’’ {وَاِنَّہٗ }اَیْ عِیْسٰی {لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃ}ِ‘‘ اَیْ عَلَامَۃُ الْقِیَامَۃِ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ’’{وَاِن مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مُوْتِہ}ٖ‘‘ اَیْ قَبْلَ مَوْتِ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامِ بَعْدَ نُزُوْلِہٖ عِنْدَ قِیَامِ السَّاعَۃِ فَیَصِیْر(وَفِی نُسْخَۃٍ فَتَصِیْرُ) الْمِلَلُ مِلَّۃً وَّاحدۃً.‘‘