باب پنجم
جواب نمبر1: اِلَیْہِ سے مراد اِلَی السَّمَائِ ہے جیسا کہ مرزا صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’ہریک نبی اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اورانبیاء اوراولیاء کی روح اگرچہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اُس آسمان سے اُسکاتعلق ہوتا ہے جو اس کی روح کیلئے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے اور موت کے بعد وہ روح اس آسمان میںجا ٹھہرتی ہے جو اس کیلئے حد رفع مقرر کیا گیا ہے‘‘ ۔
اب اس حوالہ سے ثابت ہوگیا کہ اِلَیْہِ سے مراد آسمان ہے لہذا حد رفع میں قادیانیوں کا اور ہمارا کوئی اختلاف نہ ہوا بلکہ اختلاف مرفوع شے میں ہے کہ اٹھائی کون سی چیز گئی ہے فقط روح یا جسد مع الروح۔اس کا جواب ’’بل‘‘ ابطالیہ میں موجود ہے کیونکہ ’’بل‘‘ کے ماقبل اور مابعد میں ضدیت ہے اور ضدیت کیلئے وحدت زمانی ضروری ہے لہذا عدم موت او ررفع کا زمانہ بھی ایک ہونا چاہیے اور آپ کے نزدیک عدم موت او ررفع کے درمیان 87 برس کا طویل فاصلہ ہے۔
جواب نمبر2:
اصل بات یہ ہے کہ بلندی کی نسبت اﷲ تعالیٰ اپنی طرف کرتے ہیں چونکہ اﷲ تعالیٰ کی ذات بلند اور ارفع ہے جیسا کہ فرمایا ’’ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ‘‘۔(فاطر:10) ترجمہ: اچھاکلمہ اُسی کی طرف چڑھتا ہے‘‘ یہاں بھی اِلَیْہِ سے مراد آسمان ہی ہے۔
جواب نمبر 3: قرآن خود گواہی دے رہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ آسمانوں میں ہے ’ئَ اَ مِنْتُم مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ…الخ‘‘ {الملک:16}۔یعنی کیا تم نڈر ہواس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ تم سب کوزمین میں دھنسا دے۔
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیرالدین محمود اس کا ترجمہ یوں لکھتا ہے:’’کیا تم آسمان میں رہنے والی ہستیسے اس بات سے امن میں آگئے ہو کہ وہ تم کو دنیا میں ذلیل کردے‘‘۔