باب پنجم

یُلَاقُوْنَ الْأَحْیَائَ وَلَا تَجِدُ مِثْلَ ھٰذِہِ الآیَاتِ فِیْ شَانِ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ نَعَمْ جَائَ ذِکْرُ وَفَاتِہٖ فِیْ مَقَامَاتٍ شَتّٰی فَتَدَبَّرْ فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمَتَدَبِّرِیْنَ.‘‘

ترجمہ:     ’’بلکہ کلیم اللہ کی حیات تو نص قرآن کریم سے ثابت ہے کیا تو قرآن میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّن لِّقَائِہٖ (کہ تو اُس کی ملاقات کے بارہ میں شک نہ کر۔السجدۃ:24) نہیں پڑھتا اور تُو جانتا ہے کہ یہ آیت (حضرت) موسیٰؑ کے بارے میں اُتری ہے۔ پس یہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر ایک واضح دلیل ہے۔ کیونکہ وہ رسول اللہﷺ سے ملے اور مردے زندوں سے نہیں ملتے اور تو اس قسم کی آیات عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں پائے گا۔ ہاں البتہ اُن کی وفات کا ذکر متفرق مقامات پر آیا ہے۔ پس تدبر کر، کیونکہ اللہ تدبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘۔

جواب نمبر 2:      یہاں پر بحث جانے کی نہیں بلکہ لیجانے کی ہے ہم بھی مانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام تو کیا کوئی نبی بھی آسمانوں پربذات خود نہیں جاسکتا، سوال یہ ہے کہ کیا اﷲ تعالیٰ لے جاسکتے ہیں یا نہیں۔ جناب نبی کریم ﷺ نے زیادہ سے زیادہ اس جواب میں اپنی بشریت کے اقرار میں خود جانے کی نفی کی ہے نہ کہ اﷲ تعالیٰ کے لے جانے کی ۔ دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کے لے جانے کا ذکر فرماتے ہیں سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰ ی بِعَبْدِہٖ …الخ

مرزائی اعتراض:      آیت مذکورہ میں ’’بَلْ‘‘ ابطالیہ مراد لینا بالکل غلط ہے کیونکہ قرآن مجید کلام اﷲ ہے اور اﷲ تعالیٰ کے کلام میں ’’بَلْ‘‘ ابطالیہ نہیں آسکتا۔
جواب: جن نحویوں نے یہ بات کہی ہے انہوں نے اس بات کی بھی تصریح کر دی ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کفار کا قول نقل کریں تو ان کی تردید میں ’’ بل‘‘ ابطالیہ آتا ہے جیسا کہ احمدیہ پاکٹ بک والے مرزائی نے خودلکھا ہے ۔