باب پنجم
تھے‘‘ اور یہ ظاہر ہے کہ ان انبیاء کو جنہیں وہ بر حق نہیں مانتے تھے اپنے رائج طریقہ یعنی صلیب کے ذریعہ ختم کرتے تھے یعنی قتل کرتے تھے تو وہاں اﷲ تعالیٰ نے ان کا رفع کیوں نہیں بیان کیا بلکہ ان کے رفع کا ذکر تک بھی نہیں کیاجبکہ انکا قتل وقوع میں آچکا ہے اور یہ قتل وقوع میں بھی نہیں آیا محض یہودیوں کا قتل کا قول ہے۔
جواب نمبر3:
یہاں رفع روحانی اس لئے بھی نہیں ہوسکتا کہ یہاں پر چار جگہ واحد مذکر غائب کی ضمیر آئی ہے جن میں تین ضمیروں کا مرجع بالاتفاق عیسیٰ بن مریم جسد مع الروح ہے ان ضمیروں کا مرجع نہ صرف جسد ہے او رنہ صرف روح کیونکہ قتل او رصلیب کا فعل تبھی واقع ہوسکتا ہے جب جسد اور روح اکٹھے ہوں تو لامحالہ رفع کی ضمیر کا مرجع بھی جسد مع الروح ہی ہوگا نہ کہ فقط روح نیز یہاں پر ’’کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ کاجملہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہاں رفع جسمانی ہی ہے ورنہ رفع روحانی کیلئے ان صفات کے لانے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ اﷲ تعالیٰ کے کلام میں زائد جملہ ہوجائے گا۔
مرزائی عذر:
عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیسے جاسکتے ہیں اول تواس میں کئی ناری کرّے ہیں، دوم اسلئے کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشرکین نے کہا کہ آپ آسمانوں پر جائیں تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے …الخ۔ توجناب نبی اکرم ﷺ نے جواب میں فرمایا ھَلْ کُنتُ اِلَّا بَشَرًارَّسُوْلًا (میں تو صرف بشر رسول ہوں)۔( بنی اسرائیل :93)
جواب نمبر 1:
عیسیٰ علیہ السلام اسی طرح چلے گئے جیسے موسیٰ علیہ السلام چلے گئے۔