باب پنجم
یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی اور حیات کی صریح دلیل ہے۔
نکتہ:
یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا فعل واقع نہیںہوا تھا بلکہ یہ محض ان کا ایک جھوٹا دعویٰ تھا،اسی وجہ سے ا ﷲ تعالیٰ نے ان کے ملعون ہونے کے من جملہ اسباب میں سے ان کے اس قول کو لعنتی ہونے کا سبب بتایا ہے نہ کہ فعل کو اس لئے وَقَتْلِھِمْ نہیں فرمایا بلکہ؛ وَقَوْلِھِمْ فرمایا۔
مرزائی عذر:
اس آیت میں رفع سے مراد رفع روحانی اور رفع درجات ہے کیونکہ یہودیوں کے نزدیک صلیب کی موت لعنتی شمار ہوتی ہے تو یہاں اﷲ تعالیٰ نے یہودیوں کے جواب میں فرمایا کہ وہ ان کو ذلیل نہیں کرسکے بلکہ ہم نے ان کے درجات بلند کردیے۔
جواب نمبر 1:
یہ غلَط، بالکل غلَط ہے ہم پورے دعویٰ سے کہتے ہیں بلکہ ہمارا امت مرزائیہ کو چیلنج ہے کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ صدیوں کے مسلّمہ بین الفریقین جس قدر مجدد اور مفسر گزرے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی یہاں رفع سے مراد رفع درجات یا روحانی رفع نہیں لیا سب نے بالاتفاق یہاں رفع سے مراد اسی جسم عنصری سے آسمانوں پر اٹھایا جانا مراد لیا ہے۔
’’ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْن ‘‘
جواب نمبر 2:
یہ تمہار امفروضہ کہ صلیب کی موت لعنتی موت ہوتی ہے سراسر غلَط اور یہودیانہ نظریہ ہے اول یہ ہے کہ اس کا دارومدار بائبل پر ہے جو محرف ہے دوم اس لئے کہ انہوں نے اپنے رائج طریقہ سے کئی ایک انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ.(اٰلِ عمران:112)۔’’او روہ انبیاء کو ناحق مار ڈالتے