باب پنجم
یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُط قَا تَلَھُمُ اللّٰہُ ج اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ۔‘‘ (توبہ:30)
ترجمہ: ’’ اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سی باتیں کررہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہو چکے ہیں۔ اللہ کی مار ہو ان پر! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں‘‘۔ (آسان ترجمہ قرآن)
ردّ ِصلیب: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ ‘‘۔( النساء :157)
ترجمہ: ’’اور نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی دیا اس کو۔‘‘
ردِّ کفارہ: ’’وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی‘‘۔( بنی اسرائیل :15، فاطر :18)
ترجمہ: ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
اب رہا عیسائیوں کا عقیدہ رفع و نزول، تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس کی قرآن مجیدنے کہاں تردیدکی ہے۔ اگر یہ عقیدہ بھی دوسرے عقائد کی طرح غلط او رباطل تھا توقرآن مجید کو صریح الفاظ میں جیسے ’’مَا رُفِعَ، لَمْ یُرْفَعْ، لَا یَنْزِلُ‘‘ وغیرہ صریح الفاظ سے تردید کرنی چاہیے تھی جب کہ ہم بلا خوف و تردّد یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی ایسا اشارہ تک نہیں پایا جاتا اور نہ حدیث کے ذخیرہ میں کوئی ایک حدیث اس مضمون کی ملتی ہے بلکہ اس کے بر عکس قرآن اور حدیث نے بڑے زور دار الفاظ میں ان کے اس عقیدہ کی تائید کی ہے اگر قرآن مجید اس عقیدہ کی تائید نہ بھی کرتا بلکہ صرف سکوت اختیار کرتا تو بھی ان کا یہ عقیدہ درست اور صحیح ماننا پڑتا۔قادیانیوںنے خود اس اصول کو تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے۔’’ اب ہم دیکھتے ہیں کہ واقعی صلیب کے متعلق قرآن شریف کیا کہتا ہے اگر یہ خاموش ہے تو پتہ چلا کہ یہود ونصاریٰ اپنے خیالا ت میں حق پر ہیں‘‘۔