باب پنجم

رفع ونزول کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ

حوالہ نمبر1:
’’یہ کہہ کر وہ اُنکے دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُنکی نظروں سے چھپا لیا۔ اور اُ سکے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے اُنکے پاس آ کھڑے ہوئے ۔او رکہنے لگے اے گلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیاہے اِسی طرح پھر آئیگا جس طرح تم نے اسے آسمان پرجاتے دیکھا ہے‘‘۔

حوالہ نمبر2:
’’پس توبہ کرو اور رجوع لاؤ تاکہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خدا وند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں۔ اور وہ اس مسیح کو جو تمہارے واسطے مقرر ہوا ہے یعنی یسوع کو بھیجے۔ ضرور ہے کہ وہ آسمان میں اس وقت تک رہے جب تک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں جنکا ذکر خدانے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے جو دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں۔ چنانچہ موسیٰ نے کہا کہ خدا وند خدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے مجھ سا ایک نبی پیدا کرے گا جوکچھ وہ تم سے کہے اسکی سننا۔ اور یوں ہوگا کہ جوشخص اس نبی کی نہ سنیگا ، وہ امت میں سے نیست و نابود کردیا جائیگا بلکہ سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے کلام کیا ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے ‘‘۔

حوالہ نمبر 3 :
’’ غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیاا ور خدا کی د ہنی طرف بیٹھ گیا‘‘۔

حوالہ نمبر 4 : ’’جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا توایسا ہو ا کہ ان سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اٹھایا گیا‘‘ ۔