باب ہفتم

تکیے کے نیچے کپڑے 

کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اُتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پرٹانک دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے مَلے جاتے اور صبح کو اُن کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اورسَلْوَٹْ کا دشمن اُن کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔ 

مرزائی عذر اور جواب 

مرزائی ان روایات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ مرزا صاحب کی سادگی پر دلالت کرتی ہیں ۔ اب ذرا دوسرا رُخ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ کس قد ر چالاک تھا۔ 

گول اور لمبے منہ والی 

’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداﷲ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے کہ جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دولڑکیاں رہتی ہیں ان کومیں لاتا ہوں آپ ان کو دیکھ لیں پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کردی جاوے۔ 

 چنانچہ حضرت صاحب گئے ان دولڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کردیا اور پھر اندر آکر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں آپ چِک کے اندر سے دیکھ لیں چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا پھر حضر ت صاحب نے ان کو رخصت کردیا اس کے بعد میاں ظفر صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔ وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لیے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو نہیں دیکھا پھر آپ خود فرمانے لگے کہ میرے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا