باب پنجم

ترجمہ:    ’’اور ہم نے تم پر یہ کتاب اسی لئے اتاری ہے تاکہ تم ان کے سامنے وہ باتیں کھول کھول کر بیان کر د وجن میں انہوں نے مختلف راستے اپنائے ہوئے ہیں، اور تاکہ یہ ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا سامان ہو‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)

چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’ہم نے اس کو اس لئے تجھ پر اتارا ہے کہ تا امو رمتنازعہ فیہ کا اس سے فیصلہ کردیں اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا سامان طیار کر دیں‘‘۔

عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کے عقائد:

اب ہم عیسائیوں کے عقائد کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق درج ذیل عقائد رکھتے ہیں۔ -1 تثلیث -2 الوہیت مسیح -3 ابنیت -4 صلیب اور کفارہ 5۔رفع جسمانی اور نزول جسمانی۔ اسی طرح یہود کے بھی عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند خیالات پائے جاتے ہیں رفع اور نزول کے علاوہ یہودیوں اور عیسائیوں کے تمام غلط عقائد کی قرآن مجید نے بڑے صریح الفاظ میں تردیدکی ہے ملاحظہ ہو:

عیسائیوں اور یہودیوں کے غلط عقائد کا قرآن مجید سے رد:

ردِّ تثلیث:
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْآاِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ (المائدہ :73)
ترجمہ:    البتہ تحقیق وہ لوگ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اﷲ تین میں سے تیسرا ہے‘‘۔
ردِّ الوہیت مسیح:
’’ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْآاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ.‘‘(المائدہ:72)
ترجمہ: ’’وہ لوگ یقینا کافر ہو چکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ’اللہ مسیح ابنِ مریم ہی ہے‘۔‘‘(آسان ترجمۂ قرآن)
ردِّ ابنیت:
’’ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ قَوْلُھُم بِاَفْوَاھِمْ ج