باب پنجم

بارہویں صدی کے مجدداصحاب ذیل ہیں:

(1) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (2) مرز امظہر جان جاناں دہلوی (3) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکیانی (4) حضرت احمد شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی (5) اما م شوکانی (6) علامہ سیدمحمد بن اسما عیل امیر یمن (7) محمد حیات بن ملازیہ سندھی مدنی۔

تیرھویں صدی کے مجدداصحاب ذیل ہیں:

(1) سید احمد بریلوی (2) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (3) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی (4) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (5) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے ، ہم اس کا انکا ر نہیں کرسکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں اطلاع نہ ملی ہو۔

(نوٹ)        مرز اخدا بخش کی اس دی گئی فہرست میں تیرہ صدیوں کے مجددین کی تعداد بیاسی(82) بنتی ہے۔

کتاب عسل ِمصفّٰی کی تائید و توثیق:

واضح ہوکہ مولوی خدا بخش مصنف کتاب عسلِ مصفّٰی اپنی اس کتاب کے صفحہ 6 اور7 پر لکھتا ہے کہ حکیم نورالدین بھیروی، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی ، مولوی محمد احسن امروہی نے اس رسالہ کو نہایت ہی پسند فرمایا ۔ آگے لکھتا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام (نَعُوْذُبِاﷲ)نے بھی اس ناچیزرسالے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا اور اس کے سننے سے اظہار خوشی فرمایا ۔ …….سو دوسری وجہ جواس کتاب کے لکھنے کی محرک ہوئی وہ یہی ہے کہ خود ہادی امام میری ناچیز خدمت کو نظر قبولیت سے دیکھتے ہیں۔

مرزائی سوال:

مرزائی عموماً سوال کرتے ہیں کہ چودہویں صدی کامجدّد کون ہے کیونکہ ان کے نزدیک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ہی چودھویں صدی کا مجدّد ہے۔