باب پنجم

بَعْضٍ اُمَرَائُ تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ ھٰذِہ الْاُمَّۃَ‘‘۔ 

ترجمہ :  حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ’’میری امت میں سے ہمیشہ کوئی جماعت حق کے واسطے لڑتی رہی گی اور غالب آئے گی(اپنے دشمنوں پر)قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ فرمایا، عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کے امیر اُن سے کہیں گے کہ آئیے نماز پڑھائیے وہ فرمائیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں یہ اﷲ کا اس امت کیلئے اعزاز ہے‘‘۔ 

  اس حدیث کے لفظ’’ عیسیٰ بن مریم‘‘نے مرزائیوں کی تمام تاویلات واہیہ اور خیالات باطلہ کا بخوبی قلع قمع کردیا اور روز روشن کی مانند واضح کردیا کہ آنے والامسیح وہی اسرائیلی نبی ہے نہ کہ اس امت کا کوئی اور شخص یعنی مثیلِ مسیح۔ نیز مہدی اور عیسیٰ دونوں علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہیں نہ کہ ایک جس طرح قادیانی کہتے ہیں، مسیح او رمہدی ایک ہی شخص کے نام ہیں جو مرزا ہے اور دلیل یہ دیتے ہیں ’’لَامَہْدِیْ اِلَّا عیْسٰی‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ابن ماجہ کی روایت ہے جو سندکے اعتبارسے بالکل ساقط اور غیرمعتبر ہے اس لیے اس سے استدلال درست نہیں ہے۔ 

علاوہ ازیں خود مرزا نے لکھا ہے ’’اس لیے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں ہی ظاہر ہوں گے۔‘‘

لفظ تینوں سے پتہ چلتا ہے کہ مہدی اور مسیح دونوں علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں اور سابقہ حدیث بذات خود اس با ت کا علیحدہ ثبوت ہے کہ یہ دونوں الگ الگ شخصیات ہیں۔ 

نوٹ: اس حدیث سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد امیر المؤمنین کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔۔۔ تو مرزا قادیانی نے اپنی امیر محترمہ ملکہ وکٹوریہ جس کی تائید میں پچاس الماریوں کے برابر کتابیں لکھیں اس کے پیچھے کتنی نمازیں پڑھیں؟؟