باب چہارم
براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں جن کے شائع ہونے پر اب چھبیس (26)برس سے زیادہ عرصہ گذر گیا اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف کیونکہ میں اس زمانہ میںکچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک ’’ اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ‘‘اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا ۔۔۔ بلکہ اس قصبہ کے تمام لوگ اور دوسرے ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صد ہا سال سے مدفون ہو۔۔۔اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے‘‘۔ (تتمہ حقیقت الوحی27،28روحانی خزائن،جلد22،ص459تا461)ـــــــ
جب مرزا قادیانی بقول اپنے ایسا گمنام تھا کہ اس کا نہ کوئی مخالف تھا نہ موافق بلکہ وہ ایک مردے کی طرح تھا جو صد ہا سال سے قبر میں مدفون ہو تو اب ایسی زندگی کا بطور صفائی ودعویٰ پیش کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟؟؟؟
جواب نمبر 6۔ (ماں کی نافرمانی):
’’بیان کیامجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو، حضرت نے کہا نہیں،یہ میں نہیں لیتا انہوں نے کوئی اور چیز بتائی ۔حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں ،سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھالو حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہوگیا۔۔۔۔خاکسار (مرزا بشیر احمد ایم اے) عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے مگر آپ
خاموش رہے‘‘۔
ہر عقل مند بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا کی ماں کا مقصود ہر گز یہ نہیں تھا کہ تم سچ مچ راکھ ہی سے روٹی کھاؤ بلکہ بطور زجر کہا گیا تھا اور جہاں اس حوالہ سے مرزا صاحب کی بے وقوفی ثابت ہورہی ہے وہاں مرزا صاحب کی ماں کی نافرمانی بھی ثابت ہورہی ہے ۔ اب بتائیے کوئی نبی اپنی ماں کی نافرمانی کرسکتا ہے ؟ اور وہ بھی معروف کام میں۔