باب سوم

ہیں۔

یہ اس کا علیحدہ علیحدہ تحریر کرنا یعنی قرآن و حدیث اور تفسیر لکھنااس پر دال ہے کہ وہ ظاہری الفاظ و معارف دونوں کی نفی کر رہا ہے کہ دونوں میں میرا کوئی استاد نہیں۔
وجہ ثالث:
اس عبار ت میں یہ تاویل کرنا کہ اس سے مرادصرف معارف و معانی ہیں ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس عبارت میں مرزا نے قسم اٹھائی ہے ’’سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں …الخ‘‘۔ او رقسم میں ظاہر معنی مراد ہوتا ہے وہاں تاویل استثناء وغیرہ نہیں چل سکتے۔

ایک اہم اور قابلِ حفظ اصول:
مرزا صاحب نے خودقَسم کے متعلق اصول بیان کیا ہے ،یہ بڑا اہم اصول ہے جو ہمیں نزول مسیح کی احادیث میں بھی کام دے گا ۔ جہاں نبی کریم ﷺ نے قسم اٹھا کر ایک مضمون بیان فرما یا ہے اسی طرح یہاں بھی یہ اصول کام دے گا اور ایک جگہ مرزا کا ایک مرید مرزا کی صفت میں یہ شعر کہتاہے :

خدا سے تو خدا تجھ سے ہے واﷲ

تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں

مرزائی اس کی تاویل کرتے ہیں مگر چونکہ یہاں اس نے واﷲ کے لفظ سے قسم اٹھا دی اس لیے تاویل نہیں چل سکے گی اس طرح یہ اصول بیشمار مواقع میں کام دے گا اصول یہ ہے :
’’ وَالْقَسْمُ یَدُلُّ عَلٰی اَنَّ الْخَبَرَ مَحْمُوْلٌ عَلَی الظَّاھِرِ لَا تَأوِیْلَ فِیْہِ وَلَا اسْتِثْنَائَ وَاِلَّافَأَیُّ فَائِدَۃٍ کَانَتْ فِیْ ذِکْرِ الْقَسْمِ‘‘۔

’’اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے، نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے۔ ورنہ قسم میں کون سا فائدہ ہے؟

علاوہ ازیں خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ تمام انبیا ء کا کوئی استاد اور اتالیق نہیں ہوتا :