باب سوم
’’نَقُوْلاِنَّ الْمُرَادَ مِنْ دَآبَّۃِ الْاَرْضِ عُلَمَائُ سُوْئِ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنُ بِاَقْوَالِھِمْ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّالْقُرْآنَ حَقٌّ ثُمَّ یَعْمَلُوْنَ الْخَبَائِثَ وَ یَخْدِمُوْنَ الدَّجَّالَ کَاَنَّ وُجُوْدَھُمْ مِنَ الْجُزْئَیْنِ جُزْئٌ مَّعَ الْاِسْلَامِ وَجُزْئٌ مَّعَ الْکُفْرِ اَقْوَالُھُمْ کَاَقْوَالِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَفْعَالُھُمْ کَاَفْعَالِ الْکَافِرِیْنَ فَاَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ اَنَّھُمْ یَکْثُرُوْنَ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ وَسُمُّوْا دَآبَّۃَ الْاَرْضِ لِاَنَّھُمْ اَخْلَدُوْا اِلَی الْاَرْضِ، وَمَا اَرَادُوْااَن یُّرْفَعُوْا اِلٰی السَّمَائِ … الخ۔‘‘
ترجمہ:
’’کہ ہم یہ کہیں کہ دابۃ الارض سے مراد علمائِ سوء ہیں جو اپنے اقوال سے یہ گواہی دیتے ہیں کہ رسول حق ہے اور قرآن حق ہے لیکن پھر بھی وہ گندے کام کرتے ہیں۔ اور دجال کی خدمت کرتے ہیں۔ گویا اُن کا وجود دو اجزا سے مرکب ہے۔ ایک جز اسلام کے ساتھ ہے۔ اور دوسرا جز کفر کے ساتھ۔ اُن کے اقوال مومنوں کے اقوال کی مانند اور اُن کے افعال کافروں کے افعال جیسے ہیں۔ پس (یہی وجہ سے کہ) رسول اللہﷺ نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ (علمائِ سوء) آخری زمانے میں کثرت سے ہوں گے اور ان کا نام دابۃ الارض رکھا گیا ہے کیونکہ وہ زمین کی جانب جھکے ہوئے ہوں گے اور نہیں چاہیں گے کہ اُنہیں آسمان کی طرف بلند کیا جائے۔۔۔الخ‘‘
جواب ثانی :
جواب ثالث:
خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں۔چنانچہ اپنی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم ص503 پر لکھتا ہے :
’’وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا لَھُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ …الخ‘‘ (النمل:82)
یعنی’’ جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہواور ان کا وقتِ مقدّر قریب آجائے گاتوہم ایک گروہ ’’ دَآبَّۃُ الْاَرْض‘‘ کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علما ء ظاہر ہوں گے جن کو علمِ کلام اور فلسفہ میں یدِ طولیٰ ہوگا‘‘۔
یہاں مرز اصاحب نے دابۃ الارض سے مراد علمائے سوء یعنی منافقین کو لیا ہے پھر اس سے مراد طاعون کا چوہا کیسے ہوگیا، کہاں علمائے سوء کہاں علمائے متکلمین اور کہاں طاعون کا چوہا، یہ تین اقوال آپس میں متضاد ہیں ۔ ایک ہی آیت کی تین تفسیریں مرزا صاحب کے کذاب اور منافق ہونے کی واضح دلیل ہیں اور مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ’’ جاہل، پاگل، مجنون اور منافق کے کلام میں تضاد ہوتا ہے‘‘۔
معلوم ہوا کہ خود مرزا قادیانی جاہل ، پاگل ، مجنون اور منافق ہے۔
مذکورۃ الصدر حمامۃ البشریٰ کی عبارت میں ایک او رجھوٹ بھی ہے کہ یہ