باب سوم
آیت کو طاعون پر اس طرح چسپاں کرتے ہیں کہ دَابَّۃُ الْاَرْض سے مراد چوہا ہے جو زمین سے نکلے گا اور تُکَلِّمُھُمْ کا مطلب ہے کہ ان کو کاٹے گا۔
جواب اوّل:
کسی مفسر، کسی محدث،کسی مجدد نے یہاں دابۃ سے مراد طاعون اور طاعون کا چوہا نہیں لیا ، یہ مرزا کا اپنا افترا ء ہے ہم بلاخوف وتردّد قادیانی امت کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ تیرہ صدیوں کے کسی مجدد کا نام پیش کریں جس نے اس آیت میں دابۃ الارض سے مراد طاعون لیا ہو۔
جواب ثانی :
اگر بالفرض تمہاری یہ من گھڑت تفسیر مان بھی لی جائے تو اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ طاعون مسیح موعود کے وقت میں پڑے گا اور مسیح موعود سے مراد مرزا قادیانی ہے؟؟؟ تقریب تام نہیں ہے۔
جواب ثالث:
خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں۔چنانچہ اپنی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم ص503 پر لکھتا ہے :
’’وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا لَھُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ …الخ‘‘ (النمل:82)
یعنی’’ جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہواور ان کا وقتِ مقدّر قریب آجائے گاتوہم ایک گروہ ’’ دَآبَّۃُ الْاَرْض‘‘ کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علما ء ظاہر ہوں گے جن کو علمِ کلام اور فلسفہ میں یدِ طولیٰ ہوگا‘‘۔
اس عبارت میں خود مرزا نے’’دَآبَّۃُ الْاَرْض‘‘سے مراد متکلمین اورعلمائے ظاہرلئے ہیں۔معلوم ہوا’’دَآبَّۃُ الْاَرْض‘‘سے مراد طاعون یا طاعون کا چوہا نہیں ہے۔
اسی طرح اپنی کتاب’ حمامۃ البشریٰ ‘ میں ’’دَآبَّۃُ الْاَرْض‘‘ سے مراد علمائے سوء لیا ہے: