باب سوم
مولوی ثنا ء اﷲ صاحب امرتسری اور میرقاسم علی قادیانی کا لدھیانہ میں 1912ء میں تحریری مناظرہ ہوا تھا جس میں سرداربچن سنگھ وکیل کو ثالث مقرر کیاگیاتھا ۔ اور دونوں حضرات نے تین تین صد روپیہ اس کے پاس جمع کرادیا کہ جو اپنا دعویٰ ثابت کرے گا،اس کو یہ چھ صد روپیہ دے دیا جائیگا۔ بالآخر سردار بچن سنگھ نے فیصلہ مولوی ثناء اﷲ امرتسری ؒکے حق میں کردیا او رچھ صدروپیہ بھی ان کے حوالے کردیا اس طرح مولانا صاحب ؒ نے تین صد انعامی رقم سے اس مناظرہ کو ’’ فاتح قادیان ‘‘ کے نام سے شائع کیا جو کہ آج بھی سرگودہا سے دستیا ب ہے ۔ اب احتساب قادیانیت جلد9/8 میں مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کے تمام رسائل شائع ہوچکے ہیں۔
نوٹ: اس کے باوجود بعض قادیانی پھر بھی اصرار کرتے ہیں کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اسے مباہلہ قرار دیا ہے تو ان کی خدمت میں مولانا صاحب کا یہ جواب حاضر ہے:
’’او ظالمو! تمہیں شرم نہیں آتی کہ دنیا کے کروڑہا مخالفوں میں سے جب کوئی مرتاتھا تو تمہارا دجال اکبر جھٹ سے کہا کرتا تھا کہ میری مخالفت اور مباہلہ سے مرا ہے۔آج یہ کیا آفت تم پر آئی ہے کہ تم کو لینے کے دینے پڑ گئے۔جس اصول سے تمہارا دجال اکبر کام لیتا تھا آج اسی اصول سے تمہارے مخالف کیوں نہ لیں۔