باب سوم

گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگرضُعف بہت ہوگیا تھا اس کے بعد ایک او ردست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضُعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کاسر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا او ر حالت دگر گوں ہوگئی ‘‘ ۔

اس حوالہ سے مرزا قادیانی کا ہیضہ سے مرنا روز روشن کی طرح واضح ہے کیونکہ دست اور قے جب دونوں اکٹھے ہوجائیںتو اس کو ہیضہ کہتے ہیں نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی کا آخری سانس پاخانے اور قے کے مجموعے پر لیا یعنی پاخانہ اور قے پر مرا۔
مرزائی عذر:
مرزا صاحب ہیضہ کی مرض سے نہیں مرے اگر وہ ہیضہ سے مرتے تو ریل گاڑی میں انکی میت لے جانے کی اجازت ہرگز نہ ہوتی کیونکہ یہ قانوناً منع ہے حالانکہ مرز اکی لاش کو ریل گاڑی پرلادکر قادیان لے جایا گیا ۔
جواب نمبر 1:
مرزا قادیانی بقول اپنے ’’ انگریز کا خود کاشتہ پودا‘‘ تھااسلئے اس کی لاش کو ریل گاڑی پر لے جانا کچھ مشکل بات نہ تھی۔
جواب نمبر 2: اس جواب کے دو مقدمے ہیں:
حوالہ نمبر1:(الف)۔ ریل گاڑی مرزا قادیانی کے بقول دجال کا گدھا ہے ۔ مرزا لکھتا ہے، ’’ ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قومیں ہوں اور گدھا اُن کا یہی ریل ہو‘‘۔

(ب) مرزا نے 1908؁ء میں مولانا ثناء اﷲ امرتسری کے بالمقابل ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں کہا تھا کہ اگر میں مولانا ثناء اﷲ کی زندگی میں مرجاؤں تو میں کذاب ودجال ٹھہروں گا۔