باب سوم
الراقم عبدالصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود
مرقومہ یکم ربیع الاوّل 1325ھ ،15 ؍اپریل 1907ء
خدائی فیصلہ:
اﷲ تعالیٰ کی نظروں میں چونکہ مرزا قادیانی کذاب و دجال اور جھوٹا تھا اس لیے اس دعا کے پورے ایک سال ایک ماہ گیارہ دن بعد یعنی 26 مئی 1908ء کو مرزا ہیضہ کی مو ت سے لاہور میں مرگیا اور اﷲ تعالیٰ نے مولوی ثناء اﷲ صاحب اور ان کی جماعت اور تمام مسلمانوں کو خوش کردیا۔ مرزا کے مرنے کے بعد چالیس سال تک مولوی صاحب زندہ رہے اور 1948ء میں سرگودہا میں وفات پائی۔
مرزا صاحب کا ہیضہ سے مرنا
مرزا صاحب کا ہیضہ سے مرنا
حوالہ نمبر1:
’’والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعودکو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سوگئے اور میں بھی سوگئی لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دودفعہ رفع حاجت کیلئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے اس کے بعد آ پ نے زیادہ ضُعف محسوس کیاتو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضُعف تھا کہ آپ میری چارپائی پرہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کیلئے بیٹھ گئی تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سوجاؤ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں اتنے میں آپ کو ایک او ردست آیا مگر اب اس قدرضُعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کردیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کرلیٹ