باب سوم

مرزائیو!     کوئی نبی ایسا بتاؤ جس کے اوپر دوتین زبانوں میں وحی آئی ہو اور کوئی نبی بتاؤ جو اپنی وحی کا ترجمہ نہ جانتا ہو۔

مرزائی عذر نمبر1:
یہ متعدد زبانوں کے اندر وحی ہونا مرزا صاحب کے کمال کی دلیل ہے نہ کہ ان کے جھوٹا ہونے کی ۔جتنی زیادہ زبانوں
میں وحی ہوگی وہ اس نبی کا کمال ہوگا۔

جواب:
     اوّل تو قرآنی رُ وسے یہ کمال ہی نہیں کمال یہی ہے کہ اس کی اپنی قوم کی زبان میں وحی ہو بفرض محال اگرکمال مانیں بھی تو اس وحی کو سمجھنا بھی کمال ہے اور مرزا اپنی بعض وحیوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا تھا بلکہ دوسرے لوگوں سے ترجمہ پوچھتا تھا اور پھر اگر یہ کمال ہے تو گویا مرزا تمام انبیاء سے اس کمال میں سبقت لے گیا کیونکہ دیگر انبیاء کو تو صرف ایک ہی زبان میں وحی ہوتی تھی۔

مرزائی عذرنمبر2:
مرزا صاحب چونکہ انٹرنیشنل نبی تھے اس لیے ان کے اوپر متعدد زبانوں میں وحی آئی۔

جواب نمبر 2:
حضرت محمد مصطفی ﷺ انٹرنیشنل نبی تھے ان کے اوپر کیوں نہ متعدد زبانوں میں وحی آئی اور مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں ان کا ظل اور بروز ہوں تو نبی ﷺ پر اتنی زبانوں میں کیوں نہ وحی آئی ؟ عجب بات ہے کہ اصل سے ظل اور بروز بڑھ جائے۔
جواب نمبر 2: اس وقت دنیا میں تقریباً ساڑھے چار ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں اگر مرزا انٹرنیشنل نبی تھا تو پھر اس کو ساڑھے چار ہزار زبانوں میں وحی ہونی چاہیے تھی۔ مزید لطف کی بات یہ ہے کہ مرز ا صاحب پر بعض وحی ایسی بھی آئی جو لفظاً ولغۃً ٹھیک نہ تھی یہ بھی اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔