باب سوم
جائے اسے نظم (شعر ) کہتے ہیں یعنی شعر میں قصد اورارادہ شرط ہے جو بلا ارادہ و بلا قصد کلام موزوں ہوجائے اس کو شعر نہیں کہتے۔
علاوہ ازیں مرز اصاحب نے اپنے اس قصیدے کو اعجازیہ کہا یعنی اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا مگر مولوی منت اﷲ مونگیری نے اس قصیدے کا جواب لکھ کراس کے اعجاز کو خاک میںملادیا تھااورپیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے بھی اس قصیدہ کی اغلاط اور چوریاں بیان کیں تھیں لیکن اگر اس کا مقابلہ بالفرض کوئی بھی نہ کرسکتا تو پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ وہ بجائے خود مرزا صاحب کے کذاب ہونے کی کھلی نشانی تھی ۔ جو چیز اصل (حضرت محمد مصطفی ﷺ) میں ہونا عیب ہو ،وہ خود ساختہ بروز (مرزا غلام احمد ) میں ہوناکمال کیسے ہوسکتی ہے؟
فَافْھَم وَتَدَبَّر۔
کذب مرزا کی پانچویں دلیل ۔مختلف زبانوں میں وحی
قرآنی اصول : قرآن مجید میں ہے’’ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِن رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ ‘‘ ( ابرٰہیم 4 )
یعنی ’’ اور ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا، خود اُس کی قوم کی زبان میں بھیجا،تاکہ وہ اُن کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کر سکے‘‘ (آسان ترجمۂ قرآن) ۔ اور یہ اصول حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد ﷺ تک قائم رہا۔
اب سوچئے اگر مرز اخدا کا نبی تھا تو اس کی وحی بھی اس کی قوم کی زبان کے مطابق صرف پنجابی میں ہونی چاہیے تھی مگر مرزائیوں کے قرآن (تذکرہ) کے اندر جو وحی مذکور ہے اس میں تقریباً د س زبانیں ہیں یہ ’’تَعَدُّدِ اَلْسِنَہْ‘‘ ہی مرزا کے کذاب ہونے کی صریح دلیل ہے علاوہ ازیں مرزا پر بعض ایسی زبانوں میں بھی وحی ہوئی جن کو وہ خود بھی نہ جانتا تھا اور اپنی وحیوں کے ترجمے دوسروں سے سمجھتا تھا یہ بھی اس کے جھوٹا ہونے کی صریح دلیل ہے۔