باب سوم

یہ تاویل قادیانی تاویلات کی ایک ادنیٰ سی جھلک اور نمونہ بھی ہے کہ اگر مرزا سلطان محمد کی بیوی بیوہ ہوگئی توگویا مرزا قادیانی کا بیوہ سے نکاح ہوگیا اور یہ پیش گوئی اس طرح پوری ہوگئی۔

          مرزا کی اکثر پیش گوئیاں اسی انداز سے پوری ہوئیں او ردرحقیقت اسی طرح کی تاویلات سے قادیانیت کا قصر ارتداد کھڑا ہے اگر ان تاویلات کا سہارا ہٹادیاجائے تو ایک لحظہ میں قادیانی قصرِ اِرتداد زمین بوس ہوجائے۔

کذب مرزا کی چوتھی دلیل۔ مرزاکی شاعری

مرزا نے اپنی صداقت میں قصیدہ اعجاز یہ پیش کیا اسکے علاوہ مرز ا کا اور بھی کافی منظوم کلام موجود ہے جس کو ’’ در ثمین ‘‘ عربی اردو اور فارسی تین حصوں میں علیحدہ علیحدہ جمع کیا گیا ہے حالانکہ شعر نبی کے لائق نہیں بلکہ نبی کیلئے تہمت ہے اور کفار نا ہنجار نے رسول اﷲ ﷺ پر یہ تہمت لگائی:

’’وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوْٓا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ‘‘۔ ( الصّٰٓفّٰت: 36)
’’یعنی اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ کی وجہ سے چھوڑ دیں‘‘۔
اور خدا تعالیٰ نے اس کا جواب دیا :
’’ وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ‘‘۔(یٰسٓ69)
’’یعنی اور ہم نے آپ کو شاعری کا علم نہیں دیا اور وہ آپ کے شایان، شان بھی نہیں‘‘
مرزاچونکہ جناب نبی اکرم ﷺ کے ظل اور بروز ہونے کا مدعی ہے ، لہذا اس کو بھی شعر کہنا زیب نہیں دیتا ۔ مرز ا کو کیا معلوم تھا کہ جس شاعری کووہ اپنا کمال سمجھ رہاہے وہی اس کے جھوٹے ہونے کا کھلا نشان بن جائے گا۔باقی رسول اﷲ ﷺ سے جو موزوں کلام