باب سوم
{تبصرہ} مرزا قادیانی اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح جھوٹا نکلا اور یہ پیش گوئی جس کو اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا تھا وہ اس کے جھوٹے ہونے کا واضح اور کھلا نشان ثابت ہوگیا۔ مرز اغلام احمد قادیانی اور اس کی امت اس میں ذلیل ورسوا ہو کرپریشانی کے عالم میں اس کی مختلف تاویلات کرتی ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ان دعووں میں پورے طور پر جھوٹا ثابت ہوا کوئی ایک دعویٰ بھی اس کا سچا ثابت نہیں ہوا اور مرزا سلطان محمد (المتوفّٰی1948ء) جس کو بمطابق پیش گوئی مرز ا ، اڑھائی سال میں مرنا تھا یا کم از کم مرزا کی زندگی میں مرنا تھا وہ بقید حیات رہا اور مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا یعنی 1948ء میں فوت ہوا، اور محمدی بیگم جو مرزا قادیانی کے کذب کا کھلا نشان اور منہ بولتا ثبوت تھی ۔وہ بحالتِ اسلام 19 نومبر1966ء بروز ہفتہ بمقام لاہو ر فوت ہوئیں ۔ حالانکہ مرز اقادیانی نے اپنی اس پیش گوئی کی تائید میں وہ حدیث بھی پیش کی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لانے کے بعد شادی بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی ۔ ’’ یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ ‘‘ کے الفاظ ہیں مرز اقادیانی نے اس حدیث کو اپنے متعلق قرار دیتے ہوئے اس سے محمدی بیگم سے شادی ہونا مراد لی ۔