باب سوم
بیگ کے متعلق پیش گوئی کی تھی کہ وہ اڑھائی سال کے اندر مرے گا اور جب وہ اڑھائی سال کے اند ر نہ مرا تو مرزا صاحب نے فرمایا ’’ میں بار بار کہتاہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد خاوند محمد ی بیگم ) کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہو ں تو یہ پیش گوئی پوری نہیںہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کردے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی ۔اصل مدعا تونفس مفہوم ہے اور وقتوں میں توکبھی استعارات کا بھی دخل ہوجاتا ہے‘‘۔
ہم کہتے ہیں کہ جب مرز اصاحب نے خود تسلیم کرلیا کہ وقتوں میں کبھی استعارہ بھی ہوتا ہے اسی طرح لیکھ رام کی پیش گوئی میں بھی استعارہ ہوگا اور یوں اس کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔
پانچویں جھوٹی پیش گوئی ۔مرزا صاحب کی عمر کے متعلق
’’ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیشگوئیوں سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اٹھا ئیں بلکہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کیلئے ایک عظیم الشان نشان ہوں جیسا کہ براہین احمدیہ وغیرہ کتابوں کی یہ پیشگوئیاں کہ میں تجھے اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دونگا‘‘۔
’’خدا تعالیٰ نے مجھے صریح الفاظ میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسّی(۸۰) برس کی ہوگی اوریا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم‘‘۔
’’اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چُہتر(۷۴) اور چھیاسی (۸۶)کے اندر اندر عمرکی تعیین کرتے ہیں۔ بہرحال یہ میرے پر تہمت ہے کہ میں نے اس پیشگوئی کے زمانہ کی کوئی بھی تعیین نہیں کی۔ اور خدا تعالیٰ بار بار اپنی وحی میں فرمارہا ہے کہ ہم