باب سوم
چوتھی جھوٹی پیش گوئی ۔مرزا قادیانی کی لیکھ رام کے متعلق پیش گوئی
مرز اصاحب کی غلط او رجھوٹی پیش گوئیوں میں سے آپ مسلمانوں اور عیسائیوں کے متعلق پیش گوئیاںپڑھ چکے ہیں۔ اب تیسری قوم ہندوؤں کے متعلق پڑھیے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان تینوں قوموں کے مقابلہ میں مرز اکی پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں اور ذلیل ورسوا ہوا۔لیکھ رام ایک پنڈت تھا جس سے مرز اکا اکثر مناظرہ رہتا تھا ایک مرتبہ اس سے تنگ آکر مؤرخہ 20 فروری 1893ء کو اس کے متعلق یہ پیش گوئی کی:
’’ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں ( بیماریوں) سے نرالا اورخارق عادت( یعنی طبعی موتوں سے جو عادت میں داخل ہیں الگ ہو) اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو۔(یعنی انسان سمجھ سکتا ہو کہ یہ ایک ناگہانی آفت ہے جو دلوں پر ایک ڈرانے والا اثر کرتی ہے) تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا (یعنی اگر ہیبت ناک طور پر لیکھ رام کی موت نہ ہوئی ) تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے میںطیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے۔‘‘
(تریاق القلوب ص107 ، روحانی خزائن جلد15 ص382,381، آئینہ کمالات اسلام،ر وحانی خزائن جلد 5 ص 651,650)
مرزائی عذر:
یہ پیش گوئی پوری ہوگئی کیونکہ لیکھ رام مقررہ مدت کے اندر چھری سے قتل کردیا گیا تھا۔