باب سوم

دوسری جھوٹی پیش گوئی۔ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں

مرز ا قادیانی اپنی موت کے متعلق پیش گوئی کرتا ہے کہ’’ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘‘۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ مکہ او رمدینہ میں مرنا تو درکنار مرزا قادیانی کو تو مکہ اور مدینہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا بلکہ وہ توساری زندگی انگریز کے سایۂ شفقت میں گزار گیا اور اس طرح وہ اپنی اِس پیش گوئی میں بھی ذلیل و رسوا ہوا ۔ مرزا قادیانی کا صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے روایت کرتا ہے کہ: ’’ ڈاکٹرمیر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا اور نہ اعتکاف کیا اور زکوٰۃ نہیں دی ، تسبیح نہیں رکھی ، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا‘‘۔
اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ مرز اقادیانی کو مکہ اور مدینہ جانا نصیب نہ ہوابلکہ اسکی وفات لاہور میں بمرض ہیضہ لیٹرین کی جگہ پر ہوئی ۔
کہاں مکہ اور مدینہ اور کہاں جائے حاجت(لیٹرین)۔

ع               ببیں تفاوت راہ از کجا است تا بکجا

تیسری جھوٹی پیش گوئی ۔پیر منظور کے ہاں لڑکے کی پیدائش

پیر منظور مرزا قادیانی کا خاص مرید تھا جب اسے معلوم ہوا کہ اُس کی بیوی حاملہ ہے ، پیش گوئی گھڑ لی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا ۔’’ پہلے یہ وحی الہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جونمونہ قیامت ہوگا بہت جلدآنے والا ہے اس کیلئے نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظورمحمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکاپیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلے کیلئے ایک نشان ہوگا‘‘۔