باب سوم

ظاہر ہیں۔لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں کہ اے خداوند ہمیں رسوا مت کریو۔ غرض ایسا کہرام مچ رہا ہے کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہو رہے ہیں‘‘۔

جواب نمبر2:

مرزا بشیر الدین محمود اس اعتراض کے جواب میں کہ تیری دعائیں قبول نہیں ہوئیں، لکھتا ہے کہ حضرت صاحب کی بھی دعائیں قبول نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ روز نامہ’’ الفضل ‘‘میں لکھا ہے۔

’’ آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جوحالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا سابچہ تھا اور میری عمر کوئی ساڑھے پانچ برس کی تھی مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطرار سے دعائیں کی گئیں میںنے محرم کا ماتم بھی اتناسخت نہیں دیکھا ، حضرت مسیح موعود ایک طرف دعا میں مشغول تھے…الخ۔‘‘

مرزائی عذر نمبر2:

فریق سے مراد صرف عبدا ﷲ آتھم نہیں بلکہ تمام عیسائی ہیں جیسا کہ مرزا نے انوار الاسلام ص 2 روحانی خزائن جلد9ص2  میں لکھا ہے۔جلد9ص2 میں لکھا ہے۔
جواب:
مرزا صاحب نے خود مقدمہ میں تسلیم کیا ہے کہ فریق سے مراد صرف عبداﷲ آتھم ہے ، دیکھئے

’’ عبداﷲ آتھم کی بابت ہم نے شرطیہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مرجاوے گا۔ عبداﷲ آتھم کی درخواست پر پیش گوئی صرف اس کے واسطے کی تھی کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیش گوئی نہ تھی‘‘۔