باب سوم

فرماتی توہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے ۔۔۔۔میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوںکہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہرایک سزا کے اٹھانے کیلئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیاجاوے، روسیاہ کیا جاوے ، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دی جاوے ۔ہرایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اﷲ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا زمین آسمان ٹل جائیں، پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی… اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں او رلعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو‘‘۔
آتھم نے یہ پندرہ ماہ خوب احتیاط سے گزارے، اپنا کھانا وغیرہ خود پکاتا تھا ،آخر کار پندرہ ماہ 5 ستمبر1894؁ء کو مکمل ہوئے مگر آتھم پادری نہ مرا۔ اس کے بعد عیسائیوں نے بٹالہ کے مقام پر عبداﷲ آتھم کوہاتھی پر سوار کرکے ایک عظیم الشان جلوس نکالا ۔مرزا غلام احمد قادیانی کا پتلا بنا کر اس کا منہ کالا کرکے اس کے گلے میں رسہ ڈال کر اس کو علامتی پھانسی دی پھر جلا کر دفن کیا۔اس موقع پر عیسائیوں نے مرزا قادیانی کے متعلق خوب ہجویہ نظمیں پڑھیں جو کہ رئیس قادیان میں مذکور ہیں ۔ اب ہم مرزائیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور پندرہ ماہ کے اندر عبداﷲ آتھم ہلاک ہوا ؟؟؟ ہر گزایسا نہیں ہوا، اور مرزا اپنی اس پیش گوئی میں دوسری پیش گوئیوں کی طرح ذلیل و رسوا ہوا ۔ واضح رہے کہ عبداﷲ آتھم کا انتقال 27جولائی1896؁ء کو ہوا جبکہ مرزا کی پیش گوئی کی مدت گذر چکی تھی ۔

مرزائی عذر1:

’’عبداﷲ آتھم نے اس مجلس میں ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے جناب نبی