باب سوم
ترجمہ: ’’اب بتاؤ کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، اور جب سچی بات اس کے پاس آئے تو وہ اس کو جھٹلا دے؟۔کیا جہنم میں ایسے کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہوگا؟‘‘۔(آسان ترجمۂ قرآن)
نیز جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے بھی بار بار بیان کرنے چاہئیں۔
جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے:
1۔ ’’ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں‘‘۔
2۔ ’’ جھوٹ بولنے سے بد تر دنیا میں اور کوئی براکام نہیں‘‘ ۔
3۔ ’’ تکلّف سے جھوٹ بولنا گوہ(پاخانہ) کھانا ہے‘‘۔
4۔ ’’ جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتّو ں کا طریق ہے نہ انسانوں کا ‘‘۔
5۔ ’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے ایسا بد ذات انسان تو کتّوں اور سؤروں اور بندروں سے بد تر ہوتا ہے پھر کب ممکن ہے کہ خدا اُس کی حمایت کرے‘‘۔
6۔ ’’وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں ‘‘۔
7۔ ’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجا ئے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا‘‘۔