باب سوم
{نوٹ} مرزا صاحب کی جھوٹی پیش گوئیاں بیان کرنے سے قبل قرآن مجید کی یہ آیت بار بار پڑھنی چاہیے :
یعنی ’’اللہ کے بارے میں ہر گز یہ خیال بھی دل میں نہ لانا کہ اُس نے اپنے پیغمبروں سے جو وعدہ کر رکھا ہے، اس کی خلاف ورزی کرے گا۔یقین رکھو کہ اللہ اپنے اقتدار میں سب پر غالب ہے، (اور)انتقام لینے والا‘‘۔ (آسان ترجمۂ قرآن)
پہلی جھوٹی پیش گوئی عبداﷲ آتھم کے متعلق
پیش گوئی کا اجمالی تذکرہ:
عبداللہ آتھم پادری سے مرزا قادیانی نے22مئی 1893ء کو مناظرہ شروع کیا اورپندرہ دن برابر مناظرہ ہوتا رہا جب مرزا قادیانی نے شکست دیکھی تو اپنی شکست پر پر دہ ڈالنے کے لئے مناظرہ کے آخری دن 5 جون 1893ء کو اُس نے درج ذیل پیش گوئی کر دی۔
’’ اور آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجزبندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طورپر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجزانسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ سے لیکر پندرہ ماہ تک ہا ویہ میں گرایا جاوے گااور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جوشخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سجا کھے کیے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے اسی طرح پرجس طرح اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالْمَنَّۃٗ کہ اگر یہ پیشین گوئی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ظہورنہ